poetry, shatari, sher, urdu, blog

شعر کہانی

شعر کے پس پردہ ایک واقعہ

کمیل رضوی

ایک مرتبہ علامہ اقبال تعلیمی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے لکھنؤ گئے۔ اسی سفر کے دوران ہوا یوں کہ انہیں اردو کے مشہور فکشن رائٹر سید سجاد حیدر یلدرم (والدِ قرۃ العین حیدر مصنفہ آگ کا دریا) کے ساتھ تانگے میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ دونوں حضرات پیارے صاحب رشید لکھنوئی کے گھر پہنچے۔ دوران گفتگو اقبال نے اپنی مشہور غزل انھیں سنائی جس کے چند اشعار یہ ہیں

کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

طرب آشنائے خروش ہو تو نوا ہے محرمِ گوش ہو
وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوتِ پردۂ ساز میں

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

poetry, shatari, sher, urdu, blog

اقبال کی اس غزل کو پیارے صاب رشید بڑی خاموشی سے سنتے رہے اور کسی بھی شعر پر داد نہ دی۔ جب وہ اپنی پوری غزل سنا چکے تو پیارے صاحب نے فرمایا،” اب کوئی غزل اردو میں بھی سنا دیجے۔ ” اس واقعے کو علامہ اقبال اپنے دوستوں میں ہنس ہنس کے بیان کرتے تھے۔

poetry, shatari, sher, urdu, blog


اس واقعے کا ذکر ڈاکٹر فرمان فتحپوری نے اپنی کتاب، غزل: اردو کی شعری روایت، میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ بقول اقبال جب میں یہ کلام سنا رہا تھا تو پیارے صاحب کے چہرے سے حیرت کا اظہار ہو رہا تھا۔ کبھی ان کی بھنویں تنتیں کبھی پھیل جاتیں، کبھی آنکھیں کھلتیں کبھی بند ہو جاتیں۔ میری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ ماجرا کیا ہے۔ کلام ختم ہونے کے بعد ان کے پاس ادب سے بیٹھ کر میں نے پوچھا، ” آپ کے سامنے شعر پڑھنا ہے تو گستاخی لکین جو کچھ عرض کیا ملاحظہ فرمایا۔” انھوں نے جواب دیا، “ہاں صاحب سنا ہے لکین سچ پوچھئے تو ایسی اردو نہ میں نے سنی نہ پڑھی۔ حیران ہوں کہ یہ فارسی ہے یا اردو یا اور کوئی زبان۔” کہا جاتا ہے اقبال یہ لطیفہ سنا کر دیر تک ہنستے رہتے۔

Twitter Feeds

Facebook Feeds