Ibn-e-Safi

اردو کا اگاتھا کرسٹی ۔ابنِ صفی(1980-1928)

ابنِ صفی میری معلومات کی حد تک وہ واحد ادیب ہیں جنکا یومِ پیدائش اور یومِ وفات ایک ہی ہے،یعنی 26جولائی ،اس طرح ہم کم سے کم دو برسیاں منانے سے بچ گئے۰انکی زندگی کے ہر گوشے پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ مجھ سے کم علم کو خامہ فرسائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے،لیکن چونکہ ،بچپن میں اولین نقوش انہیں کی تحریروں سے ذہن پر ثبت ہوئے ہیں،

Daagh Dehlvi

शायरी से सम्बंधित ये ज़रूरी बातें सब को जानना चाहिए

मिर्ज़ा दाग़ देहलवी कहते हैं कि आगे मैं आपको जो भी बताने-समझाने जा रहा हूँ उन तमाम बातों को ग़ौर से सुन लें क्यों कि इन सब बातों को जाने-समझे बग़ैर आप अच्छे शे’र नहीं कह पाएँगे। आपका बयान और ज़बान यूँही सी रहेगी उसमें कोई ख़ूब-सूरती, नया-पन और तख़्लीक़ी सलाहियत पैदा नहीं हो सकेगी।

Aamezish: The Confluence of Sufi Poetry and Western Music

Poetry and music share an equation that is analogous to that of a heart and mind; one of them throbs while the other thrives. Being fascinated with Persian Sufi poetry and Western classical music has often seen me scouring deep beneath the bottom of the internet-ocean and coming out with pearls undiscovered.

Jameel Gulrays

وہ شخص دھوپ میں دیکھو تو چھاؤں جیسا ہے

جمیل گلریز ایک شخص نہیں بلکہ ایک انجمن کا نام ہے ۔ اردو سے محبت کا دعوی تو بہت لوگ کرتے ہیں لیکن اردو کا ایسا مخلص اور بے لوث سپاہی شاید ہی ملے ۔ صلہ کی تمنا اور ستائش کی پروا کئے بغیر وہ ہندوستانی زبانوں اور خاص کر اردو کو بچانے کی مہم میں جٹے ہوئے ہیں ۔ وہ بمبئی(ممبئی) پانچ نومبر انیس سو انچاس (5/11/49)میں پیدا ہوئے ۔ اردو میں ایک محاورہ ہے “سونے کا چمچ “ لیکر پیدا ہونا ۔

Daastaan

داستانِ داستان گوئی

شاید فن داستان گوئی کا یہی طلسم ہے کہ وہ آج بھی لوگوں کو اپنے سحر میں باندھے ہوئے ہے ۔زمانہ بدل گیا ہے ۔داستانیں بھی بدل گئیں لیکن انسانوں کی داستان سننے اور سنانے کی سرشت کبھی نہیں بدلے گی ۔جہاں ایک داستان گو اپنی داستان ختم کرکے اٹھتا ہے دراصل وہیں سے اس داستان کا نیا حصہ شروع ہوجاتا ہے ۔یہ داستان محض “الف لیلہ” کی ہزار راتوں کی داستان نہیں ہے بلکہ پوری نسلِ انسانی کی داستان ہے اور یہ ابد تک چلتی رہے گی۔

मैं एक औरत-दुश्मन शायर रहा हूँ

हम मिर्ज़ा ग़ालिब की नसीहत पर अमल करते हुए भी अदब के मैदान में ख़ुद को बड़ा शायर बनाना चाहते थे कि ‘मिस्री की मक्खी बनो, शहद की मक्खी नहीं बनो’। मगर हमने ग़ौर नहीं किया कि ये जुमला किस तरह औरत दुश्मनी की रिवायत का बीज हमारे ज़हन में बो रहा है। हमें लगा कि अदब में बेहतरीन क़िस्म का शायर वही होता है, जो बदन की शायरी करता हो।

Twitter Feeds

Facebook Feeds